ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / تملناڈو نے پھر کاویری مسئلہ چھیڑا؛فصل کی تباہی کا نقصان کرناٹک کو بھرنے کی عرضی پر بات چیت

تملناڈو نے پھر کاویری مسئلہ چھیڑا؛فصل کی تباہی کا نقصان کرناٹک کو بھرنے کی عرضی پر بات چیت

Sat, 13 Aug 2016 11:00:51    S.O. News Service

بنگلورو12؍اگست(ایس او نیوز؍عبدالحلیم منصور) تملناڈو میں فصلوں کو ہوئے نقصان کا ہرجانہ ادا کرنے کیلئے جئے للیتا حکومت کی طرف سے حکومت کرناٹک کو نوٹس جاری کئے جانے اور کاویری طاس علاقوں میں کم بارش کے سبب پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے آج وزیر اعلیٰ سدرامیا کی صدارت میں محکمۂ آبی وسائل، محکمۂ قانون اور دیگر محکموں کے اعلیٰ افسران کا اجلاس منعقد ہوا۔ 2012 سے ریاست میں خشک سالی کی صورتحال رہی، جس کی وجہ سے کاویری آبی تنازعہ ٹریبونل کے قطعی فیصلے کے مطابق تملناڈو کو مطلوبہ مقدار میں پانی کی فراہمی ممکن نہیں ہوپائی ، جس کی وجہ سے تملناڈو میں کئی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔اس کیلئے حکومت کرناٹک سے بارہ ہزار کروڑ روپیوں کے ہرجانہ کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت تملناڈو نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے، عدالت عظمیٰ نے اس سلسلے میں حکومت کرناٹک کونوٹس جاری کیا ہے۔اس ضمن میں کیا موقف اپنانا ہے آج اس پر تفصیلی بات چیت کی گئی اور کرناٹک کی طرف سے قانونی جنگ جاری رہے گی۔ کاویری آبی تنازعہ کے پیش نظر کاویری طاس علاقوں میں پانی کی قلت کی حقیقت سے عدالت کو واقف کرانے پر اتفاق کیاگیا اور بتایا گیا کہ فی الوقت کرشنا راجہ ساگرمیں 21؍ ٹی ایم سی فیٹ پانی موجود ہے، جو صرف پینے کیلئے کام آسکتاہے۔ مشکل گھڑیوں میں بھی کرناٹک نے تملناڈو کو وافر مقدار میں پانی مہیا کرایا ہے۔ اب جبکہ آبی ذخائر میں پانی موجود نہیں ہے اسی لئے کرناٹک کی طرف سے تملناڈو کو پانی مہیا کرایا نہیں جاسکتا۔ ہیماوتی میں16 ٹی ایم سی اور کبنی میں پانچ ٹی ایم سی فیٹ پانی رہ گیا ہے۔


Share: